احتجاج جمہوری حقوق کے لیے کتنا ضروری ہے۔

احتجاج جمہوری حقوق کے لیے کتنا ضروری ہے۔
یاسر ندیم الواجدی

شہریت ترمیمی قانون کے پارلیمنٹ سے پاس ہونے کے بعد سے ملک کے مختلف گوشوں میں مظاہرے ہورہے ہیں، نارتھ ایسٹ صوبوں کے ساتھ ساتھ، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، دیوبند اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے تاریخی اداروں کے طلبہ نے احتجاج کیے۔ جمعیت علمائے ہند کی جانب سے بھی رپورٹ دی گئی کہ ان کے بینر تلے دو ہزار شہروں اور قصبات میں مظاہرے ہوے ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ کچھ ملی حلقوں سے ان مظاہروں کی جو سرپرستی ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی، بلکہ یہ دلیل دی گئی کہ اب تو قانون بن چکا ہے، اب مظاہروں سے کیا فائدہ۔ حالانکہ ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں، جب قوم کی اکثریت ایک ہی موقف پر متفق ہو، بلکہ اس موقع پر صرف مسلمان ہی نہیں، غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد بھی ساتھ میں کھڑی ہے اور نارتھ ایسٹ میں تو غیر مسلم ہی سول نافرمانی کی اس تحریک کو لیکر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے مواقع پر احتجاجی مظاہروں پر سوالیہ نشان کھڑا کرنا تعجب خیز ہے۔

مظاہرے عموما ہوتے ہی ہیں قانون بننے کے بعد۔ ان کا مقصد جہاں حکومت کو قوانین بنانے سے باز رکھنا ہوتا ہے، وہیں حکومتوں کو قوانین بدلنے پر مجبور کرنا بھی ان مظاہروں کا مقصد ہوتا ہے۔
جامعہ کے طلبہ کا مظاہرہ اس اعتبار سے کامیاب رہا کہ دہلی میں ہونے کی وجہ سے اس کی بازگشت عالمی میڈیا میں سنائی دی۔ عالمی نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق جاپان کے وزیر اعظم نے ان مظاہروں کے نتیجے میں اپنا بھارتی دورہ رد کردیا۔ لیکن یہ وقتی کامیابی ہے، ابھی منزل بہت دور ہے۔

ان عوامی تحریکات کا اثر عدالتوں پر بھی پڑتا ہے۔ بابری مسجد کے معاملے میں، مسلم فریق کے دلائل کو تسلیم کرنے کے باوجود اکثریتی مزاج کو سامنے رکھ کر عدالت نے فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کی معقولیت پر تاریخ ہمیشہ ماتم کناں رہے گی۔ کیا اس تازہ ترین مثال کے بعد بھی کسی دوسری مثال کی ضرورت رہ جاتی ہے؟۔

اس کے باوجود اگر جمہوریتوں میں مظاہروں کی افادیت سے انکار ہے، تو عالمی حالات اور تاریخ پر نظر ڈالنی چاہیے۔ انیس سو تریسٹھ میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی قیادت میں واشنگٹن میں ہونے والا احتجاج، امریکہ کی تاریخ کا حصہ ہے۔ ان کی اس موقع پر کی جانے والی تقریر اسکولوں کے نصاب میں داخل ہے۔ دو لاکھ کے اس جم غفیر نے صدر جان ایف کینیڈی کو شہری حقوق میں مساوات سے متعلق سخت قانون بنانے پر مجبور کردیا تھا۔

اٹھائیس سال تک جرمنی دو حصوں میں تقسیم رہا، 1989 میں عوامی مظاہروں کے نتیجے میں مشرقی جرمنی نے برلین کی دیوار کے گیٹ کھول دیے اور دیورا برلن کا سقوط ہوگیا۔ جرمنی پھر سے متحد ہوگیا اورحکومتیں عوامی دباؤ برداشت نہیں کرسکیں۔

فن لینڈ کی سولہ سالہ لڑکی تھمبرگ نے دوسال پہلے گلوبل وارمنگ پر عالمی برادری کی بے حسی کے خلاف احتجاج کی کال دی، تو دنیا نے تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج دیکھا۔ دو سو بڑے شہروں میں لاکھوں لوگوں نے حکومتوں پر دباؤ بنایا۔ تھمبرگ کی جد وجہد ابھی جاری ہے۔ آج اس لڑکی کی ٹویٹ کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس کو جواب دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ہانگ کونگ کے مظاہرے بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

مثالیں بہت ہہں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ملی قیادت کو مثالیں دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علیگڑھ کے طلبہ دیوبند، ندوہ، بریلی، جمعیت اور پرسنل لاء بورڈ جیسی تنظیموں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ انھوں نے جس پر خطر راستے کا انتخاب کیا ہے، اس پر کانٹے ہی کانٹے ہیں۔ وہ سڑکوں پر احتجاج کے دوران، یا گرفتار ہونے کے بعد تھانوں میں اپنی نمازوں سے بھی غافل نہیں ہیں۔ وہ محاذ پر ڈٹے ہوے ہیں، وہ دعاؤں کی مجلس میں آہ وزاری کرکے امت کے بیدار ہونے کی دعا مانگ رہے ہیں۔ اوکھلا میں ہی جامعہ سے چند قدم دور تمام آل انڈیا مسلم تنظیموں کے صدر دفتر واقع ہیں۔ اس وقت ملی قیادت کو متحد ہوکر ان نوجوانوں کی خبر گیری کرنی چاہیے۔ ہوسکتا ہے کہ بعض قائدین کی رائے مظاہروں کے حق میں نہ ہو، لیکن کبھی کبھی قوم کے فیصلوں کو اپنے رائے پر ترجیح دینا پڑتی ہے۔ کامیاب قیادت وہی ہے جو نوجوانوں کے حوصلوں کو منظم کردے، کیوں کہ بیدار نوجوانوں کے حوصلوں کو صحیح سمت تو دی جاسکتی ہے، ان کو دبایا نہیں جاسکتا ہے۔ کاش کہ ہم اصاغر کی باتوں کو ہمارے بڑے نظر انداز نہ کریں اور متحد ہوکر سڑکوں سے لیکر عدالتوں تک، دستور کے تحفظ اور اپنی قوم اور اس کے ایمان کی بقا کی خاطر، ان نوجوانوں کے سروں پر اپنا ہاتھ رکھ دیں۔

0 Shares:
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *