سلام ہو تم پر

سلام ہو تم پر
یاسر ندیم الواجدی

ہمیں ان تمام طلبہ پر (خواہ یونیورسٹیوں کے ہوں یا مدرسوں کے) فخر ہے جنھوں نے میدان سے “قیادت” کے غائب ہونے کے باوجود ہمیں یہ احساس دلادیا کہ امت ابھی بانجھ نہیں ہوئی ہے۔

یہ سچ ہے کہ قیادت کسی کے گھر پیدا نہیں ہوتی، وہ المیوں اور سانحوں کی کوکھ سے جنم لیتی ہے، اس کا خمیر ظلم کی چکی میں پستا ہے، اس کو عیش کوشی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، وہ تو آتی ہی ہے قربانی دینے کے لیے۔ وہ اپنے گھر اور آل واولاد کی فکر میں بوڑھی نہیں ہوتی، بلکہ اس کی ہڈیاں قوم کے غم میں گھلا کرتی ہیں۔ اس کی کامیابیاں اس کی حصولیابیوں سے نہیں ناپی جاتیں، بلکہ اس کی جہد مسلسل اس کا قد ناپنے کا پیمانہ ہوتاہے۔ کہیں دور کیوں جاتے ہیں، سو سال ہی تو ہوے ہیں، صرف سو سال! شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی کامیاب قیادت کا پیمانہ ریشمی رومال کی تحریک نہیں تھی، وہ تحریک تو ناکام تھی، اس کے باوجود وہ عظیم قائد تھے، ایسے قائد جن کی ہڈیاں اس غم میں گھلی جارہی تھیں کہ جب خانقاہوں سے نکلنے والے رسم شبیری ادا نہیں کریں گے تو اس رسم کا پاسبان کون ہوگا۔ وہ قائد اس لیے تھے کہ ان کی تحریک جامعہ نے سو سال کے بعد اس امت کو بانجھ ہونے سے بچالیا۔

آج نوجوانوں میں مسٹر اور ملا کا فرق ختم ہوگیا، دیوبند اور ندوہ نے ثابت کردیا کہ سجدے اگر دیوبند میں ہوں گے، تو قیام ندوہ کے طلبہ کریں گے۔ موجودہ حالات میں مشعل قیادت علیگڑھ سے چلی اور دیوبند پہنچی، فرزندان دیوبند نے اس مشعل کی آنچ کو تیز تر کردیا، ان کی جبین نیاز نے اس کی لو کو وہ تیزی بخشی کہ جامعہ تک اس کا اثر ہوا، جامعہ کے غیور طلبہ وطالبات نے اس مشعل کو اتنی رفعت بخشی کہ وہ خود ظالموں کے ظلم سے گرے، لیکن مشعل کو گرنے نہ دیا۔ ان کی غیرت نے کتنی ہی جامعات کو رات بھر جگائے رکھا، حیدرآباد، پٹنہ، بنگال، بنارس اور ممبئی سے ہوتی ہوئی یہ مشعل ندوہ پہنچی ہے۔ تمہیں سلام ہو اے فرزندان ملت! تمہیں سلام ہو اے دختران قوم! تمہیں سلام ہو کہ تم نے بزدلی کے الزام کو غلط ثابت کردکھایا! تمہیں سلام ہو کہ تمہارے فلک شگاف نعروں نے بہت سے سوتوں کو جگایا ہے، جو نہیں جاگے، وہ اس لیے نہیں جاگے، چوں کہ جاگنا ان کے مقدر میں نہیں ہے، ان کے مقدر میں تو موت ہے۔ تم نے باطل کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر یہ اعلان کردیا ہے کہ یہ ملک تمہارا ہے، اور تم اپنے دین اپنے ایمان اور اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتے ہو۔ سلام ہو تم پر

0 Shares:
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *