فکری اختلافات میں ہمارا طرز عمل واقعی غلط ہے

فکری اختلافات میں ہمارا طرز عمل واقعی غلط ہے
یاسر ندیم الواجدی

کچھ دیر پہلے عزیز دوست مولانا ڈاکٹر شکیب قاسمی کا مضمون فکری اختلافات اور ہمارا طرز عمل نظر سے گزرا۔ ایک شاندار مضمون کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ایک فکری اختلاف کو جس طریقے سے کچھ لوگوں نے ذاتی مسئلہ بنالیا ہے، ان کے لیے یہ تحریر مشعل راہ ہے۔ جس دن مدرسہ ڈسکورسز پر ہمارا پہلا مضمون آیا، اس دن ان سے فون پر بات بھی ہوئی، جس میں اختصار کے ساتھ ان کے مضمون کے چند مشمولات بھی زیر گفتگو آئے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کے مضمون پر فنڈنگ کو الگ رکھ کر گفتگو ہونی چاہیے، کیوں کہ جان ٹیملیٹن فاؤنڈیشن کی جانب سے ہونے والی فنڈنگ کس نوعیت کی ہوتی ہے اور اس ادارے کے لوگ کس طرح “جوڈو-کرسچانٹی” کے مبلغین ہیں، ان امور پر بار بار گفتگو کرنے سے کوئی حاصل نہیں ہے۔ بس اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ لیس الخبر کالمعاینة۔ جن چیزوں کی حساسیت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے اس کو کتنا ہی بتایا جائے، رہے گی وہ خبر واحد ہی جس سے ظنی درجہ میں ہی علم حاصل ہوتا ہے۔

مدارس کے طلبہ یونیورسٹی جائیں یا نہ جائیں اس تعلق سے عرض ہے کہ ہمارے باصلاحیت صالح الفکر نوجوان ضرور جامعات کا رخ کریں، لیکن رطب و یابس کو قبول کرنے والے اذہان ایسے ماحول سے دور رہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ مدارس سے فارغ ہونے والے نوجوانوں کی اکثریت صالح الفکر لوگوں کی ہوتی ہے یا ان کی جن کو کہیں بھی ہنکایا جاسکتا ہے، تو اس کا جواب مولانا شکیب قاسمی سے بہتر کوئی نہیں دے سکتا، وہ خود ایک بڑے مدرسے کے ذمے دار ہیں اور ما شاءاللہ تجربہ رکھتے ہیں۔ دو روز پہلے مفتی انوار خان سے فون پر گفتگو میں بھی یہی موضوع سامنے آیا جس کے جواب میں احقر نے کہا کہ مفتی صاحب! آپ جیسے لوگوں کو ضرور جانا چاہیے، چونکہ ہمیں اعتماد ہے کہ آپ صلاح وفساد کے درمیان تمیز رکھتے ہیں اور برابری کے درجے پر مکالمہ انجام دیں گے۔ لیکن مدارس سے نکلنے والی عام بھیڑ کا حشر کیا ہوتا ہے وہ ہمارے دہلی سے تعلق رکھنے والے ایک موقر صحافی دوست، نیز مولانا محمد طلحہ صاحب جو دارالعلوم ہی کے ایک نوجوان فاضل ہیں اور ڈی یو سے ایم اے کرچکے ہیں بتاتے ہیں۔ ان حضرات کے مطابق کچھ فارغین مدارس محض ماحول کی تبدیلی سے ارتداد کے قریب پہنچ چکے ہیں، کچھ شراب اور ڈسکو کے بھی عادی ہیں۔ یہ فکری زوال کی انتہاء ہے، وضع قطع کے ساتھ وہ کیا معاملہ کرتے ہیں یہ ایک الگ موضوع ہے۔ تو یہ سوال ارباب مدارس سے ہونا چاہیے کہ وہاں سے نکلنے والی ایک تعداد قادیانی بھی بن رہی ہے، آر ایس ایس بھی جوائن کررہی ہے، تجدد پسندی کا بھی شکار ہورہی ہے، مگر داعی نہیں بن رہی ہے، متکلم نہیں بن رہی ہے، فکر نانوتوی کو دوسری زبانوں میں عام کرنے والی نہیں بن رہی ہے، آخر کیوں؟

ہمارے حلقوں میں حضرت مفتی سعید احمد پالنپوری دامت برکاتہم کے مزاج سے سب واقف ہیں، افتاء سے فراغت کے بعد میں نے حضرت سے دریافت کیا کہ میں عصری جامعات میں جانا چاہتا ہوں، آپ کی کیا رائے ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ تم ضرور جاؤ۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میں ماحول سے متاثر نہ ہو جاؤں، حضرت نے فرمایا کہ تم نہیں ہوگے۔ حضرت مفتی صاحب کی یہ بات کسی فرد واحد کے لیے نہیں تھی، بلکہ ہر اس شخص کے لیے تھی جس پر اس کے بڑے اور اس کا ادارہ اعتماد کرتے ہوں۔

ڈاکٹر مصطفیٰ اعظمی رحمہ اللہ کے بارے میں کون نہیں جانتا، وہ دیوبند سے نکل کر، قطر اور کیمبرج سے ہوتے ہوے ریاض پہنچے، شاہ فیصل ایوارڈ یافتہ اس شخصیت پر جتنا فخر کیا جائے اتنا کم ہے۔ لیکن یونیورسٹی آف شکاگو میں حضرت مولانا ارشد مدنی مدظلہ العالی کے درسی ساتھی ایک پروفیسر ایسے بھی ہیں جنہوں نے مجھے بتایا کہ وہ مرتد ہوگئے تھے، اب اس عمر میں اللہ نے ان کو واپسی کی توفیق دی ہے۔ اس لیے اپنی اور اپنے اداروں کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوے، نہ مطلقاً طلباء کے عصری جامعات میں جانے کی وکالت کی جاسکتی ہے اور نہ ہی مطلقا اس کو مسترد کیا جاسکتا ہے۔ خصوصا اگر ہمیں اس بات کا علم ہوجائے کہ اساتذہ کن افکار کے حامل ہیں تو پھر معاملہ مزید سنگین ہوجاتا ہے۔ ہمارا اختلاف مدرسہ ڈسکورس کے آئڈیے سے کبھی نہیں تھا، ہمارا اختلاف صرف یہ تھا کہ بڑی علمی شخصیات، نیز اساتذہ دارالعلوم دیوبند اور اساتذہ وقف دارالعلوم دیوبند اگر اس کی تائید کرتے ہیں، تو اس کے چھپے ہوے مفاسد اس وقت سامنے آئیں گے جب بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

اس کے مفاسد کیا ہیں، یہ مجھ سے بہتر دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فاضل ڈاکٹر مفتی عبیداللہ صاحب بتاسکتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ: “مختصراً یہ کہ ڈسکورس پروگرام اگر وحدتِ ادیان کی تبلیغ کرے، اسلام کے ذریعے غلامی کی اجازت جو قطعی نصوص سے ثابت ہے، اس پر تنقید کرے، اسلام کی سزائے ارتداد پر معترض ہو، مستند ذخیرہِ احادیث پر اعتراض کرے اور دیگر اسلامی مسلمات کو مخدوش کرے تو کیا ایسی تنظیم یا پروجیکٹ کی حمایت علماء یا مسلمانوں کو کرنی چاہیے؟
میں نے اوپر جو باتیں کہی ہیں وہ سب ثابت شدہ ہیں. اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ باتیں ڈسکورس میں نہیں پائی جاتی ہیں تو وہ سامنے آئے اور ثابت کرے”۔
مولانا کی بات پر میں یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ اگر ڈسکورس کے ذمے داران ان باتوں کی تردید کردیں اور یہ کہدیں کہ ہم مسلمات کو نہیں چھیڑتے تو بات یہیں ختم ہو جائے۔

اب اگر یہ چیزیں ڈسکورس کا حصہ ہیں اور اس کے پروگراموں کی روداد لکھنے والے اس کے آفیشل مجلات میں خود ہی لکھ بھی رہے ہیں، تو تحفظات کا تو اظہار کیا ہی جائے گا۔ اگر اس اظہار پر بھی چیں بہ جبیں ہوا جائے، تو پھر ایمان کے کمزور ترین درجے پر عمل کرنے کی بھی کوئی صورت نہیں رہے گی۔

امریکی جامعات میں نوٹر ڈیم ہی کیا، ہر جامعہ متجددین مستشرقین سے بھری پڑی ہے۔ متجددین کی یہ نسل یونیورسٹی آف شکاگو کے سابق پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمان مرحوم کے منہج پر چل رہی ہے۔ ڈسکورس کی روداد میں ان کے منہج کو سراہا گیا ہے۔ فضل الرحمان کے نزدیک حدیث ہی کیا، قرآن پر بھی مکمل ایمان ضروری نہیں تھا۔ ڈسکورس کے ذمے دار ابراہیم موسی، فضل الرحمان کی تصانیف کی خدمت بھی انجام دے چکے ہیں۔ ان سب کے باوجود اگر کوئی شخص انفرادی طور پر کسی بھی جامعہ کا رخ کرتا ہے، تو کرے، تحفظات کا تعلق آپ حضرات کی تائید سے تھا اور بس۔ اب جب کہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی نے بھی وضاحت کردی اور مولانا شکیب قاسمی بھی اس سے نکل آئے اور ان کی بھی وضاحت آگئی، جب کہ کچھ اساتذہ دارالعلوم دیوبند نے بھی حقیقت حال سے باخبر کرانے پر شکریہ ادا کیا، تو ہم سمجھتے ہیں کہ بات ختم ہوگئی ہے۔ اس کے بعد ڈسکورس والے پڑھاتے ہیں یا نہیں پڑھاتے، اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

ایک آخری بات یہ بھی بتاتا چلوں کہ ڈاکٹر عاطف سہیل صدیقی کو سال گزشتہ ییل یونیورسٹی نے داخلہ دے کر حضرت نانوتوی کی فکر و فلسفہ پر ریسرچ کے لیے بلایا۔ ڈاکٹر صاحب نے محنت سے مقالہ تیار کیا، ان کے پروفیسر نے مقالے کو خوب سراہا۔ مگر اس کا مطالبہ یہ تھا کہ مقالے میں اس پر بھی گفتگو ہونی چاہیے کہ شاملی کے میدان میں حضرت نانوتوی نے کتنے انگریزوں کو مارا۔ اگر وہ سپہ سالار تھے، تو یقینا بہت سے انگریز ان کے ہاتھ سے مرے ہوں گے۔ ہم نے آپس میں مشورہ کیا اور یہی طے پایا کہ ڈاکٹر عاطف صاحب اس سے کہیں کہ فلسفہ نانوتوی کا اس عمل سے تعلق ثابت کرو تو یہ چیز بھی لکھ دی جائے گی۔ وہ دیوبند سے تعلق رکھنے والے شخص سے، ایک ریسرچ پیپر میں یہ باتیں کیوں لکھوانا چاہتا تھا، اس کی وضاحت پھر کبھی، لیکن اس واقعے سے یہ سمجھنے میں ضرور مدد ملتی ہے کہ استعماری ادارے بہت کچھ سوچ کر ہی قدم اٹھاتے ہیں۔

لہذا گفتگو اس پر ہونی چاہیے کہ ہمارے مدارس اپنے نظام اور نصاب کو اتنا مضبوط کردیں کہ ہمارا ہر نوجوان یونیورسٹی جائے اور مرعوبیت کے بغیر مکالمہ کرے، تاکہ ہمارے مدارس کے نظام کو فرسودگی کا طعنہ دیتے ہوے ڈسکورس کے نام پر طلباء کی فکری تشکیل نو کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔

امید ہے کہ اس تحریر سے ہمارے موقف کی مزید وضاحت ہوئی ہوگی۔ اس تحریر کو اس سلسلے کی آخری تحریر سمجھا جائے۔

0 Shares:
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *