اورنگزیب بنام شیواجی

اورنگزیب بنام شیواجی
یاسر ندیم الواجدی

اس تحریر کے مقدمہ کے طور پر یہ بتلا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اہل کشمیر کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند کی تجویز میں جو موقف واضح انداز سے آنا چاہیے تھا وہ نہیں آیا، جس سے امن پسند اور سیکیولر ذہنیت کے سبھی ہندوؤں اور مسلمانوں کو سخت مایوسی ہوئی ہے اور اس مایوسی میں ہم برابر کے شریک ہیں۔ اس لیے مندرجہ ذیل تحریر کو کشمیر کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔

کشمیر کے تعلق سے مولانا محمود مدنی کی پیش کردہ تجویز پر اٹھا طوفان ابھی اپنی “آب و تاب” کے ساتھ جاری ہی تھا کہ ان کے ایک دوسرے بیان نے سوشل میڈیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ قضیہ کشمیر پر ان کے بیان سے پیدا ہونے والی ناراضی نے لوگوں کو یہ موقع ہی نہیں دیا کہ وہ ان کے دوسرے بیان پر غور کرتے اور اس کی معنویت کو سمجھتے۔

نیوز 18 نامی ایک ویب پورٹل نے ان کی جانب منسوب ایک بیان میں یہ لکھا کہ وہ وہ شیواجی کے مقابلے میں اورنگزیب کو دس میں سے آٹھ نمبر جبکہ شیواجی کو دس نمبر دیں گے۔ اس بیان کا آنا تھا کہ ارباب خرد نے لعن طعن کے سلسلے کو دراز کردیا۔ حالانکہ اسی ویب پورٹل کی انگریزی کی ویب سائٹ پر ان کا یہ بیان قدرے طویل اور مختلف ہے۔ ہمارا تعلق نہ ان کی جمعیت سے ہے اور نہ ان کی مخالف جمعیت سے۔ اس لیے ہم نے چاہا کہ غیر جانب داری کے ساتھ ان کے بیان کا تجزیہ کردیں۔

دائیں بازوں کے ایک ہندو ادارے کی جانب سے منعقدہ ایک سمپوزیم میں مولانا محمود مدنی سے یہ سوال کیا گیا کہ داراشکوہ تو بہت اچھا مسلمان تھا، البتہ وہ اورنگزیب کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں؟ اس کے جواب میں انہوں نے یہ کہا “کہ تاریخ میں پیچھے جانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، ورنہ یہی سوال ہندوؤں کے بارے میں بھی ہونا چاہیے کہ کون اچھا ہندو ہے اور کون برا ہندو۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ گولوالکر، ساورکر، پٹیل اور نہرو میں اچھا ہندو کون تھا اور برا کون؟”

مولانا نے جس انداز سے مخالف کی طرف سے کیے گئے سوال کو اسی کی طرف پھیر دیا، یہ یقینا لائق تعریف ہے۔ نیوز 18 کی انگریزی ویب سائٹ نے ان کے اسی سوال کو سرخی بناکر نشر کیا ہے۔ انھوں نے پھر کہا کہ “اس بات سے قطع نظر کہ اورنگزیب ہندو تھے یا مسلمان، اسی طرح شیواجی ہندو تھے یا مسلمان، وہ دونوں کو حکمراں کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اس حیثیت سے اگر وہ دونوں کے درمیان موازنہ کریں تو وہ اورنگزیب کو آٹھ نمبر دیتے ہیں جبکہ شیواجی کو دس”۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت اورنگزیب عالمگیر مسلمانوں کے نزدیک اگرچہ ایک عظیم فرمانروا تھے جن کے عدل و انصاف کا پورا ہندوستان گواہ ہے، وہ یقینا غریب پرور اور ولی صفت بادشاہ تھے لیکن غیر مسلموں کے نزدیک غلط فہمیوں اور من گھڑت تاریخ کی بنیاد پر ان کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے مسلمانوں کے نزدیک راجہ داہر کی۔ اسی طرح شیواجی کی حیثیت مسلمانوں کے نزدیک خواہ کچھ بھی ہو، لیکن غیر مسلموں کے نزدیک ان کی حیثیت ایسی ہے جیسے ہمارے نزدیک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی۔ لہذا اگر کوئی ہندو یہ کہے کہ وہ راجہ داہر کو دس میں سے آٹھ نمبر، جبکہ حضرت عمر کو پورے دس نمبر دیتا ہے، تو یہ راجہ داہر کے لیے تو اعزاز ہوا، لیکن ساتھ ہی حضرت عمر کی توہین بھی ہوئی۔ راجہ داہر کا حضرت عمر سے کسی بھی طرح موازنہ کرنا ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی ہے۔

مولانا محمود مدنی نے شیواجی کا موازنہ حضرت اورنگزیب عالمگیر سے کرکے، فرقہ پرست ہندوؤں کے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کیا ہے۔ دائیں بازو سے وابستہ ہندوؤں کے کسی بھی پروگرام میں ہماری معلومات کے مطابق اس طرح کا موازنہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ البتہ سوال یہ ہے کہ کیا حضرت اورنگزیب کو واقعی آٹھ نمبر ملنے چاہییں تھے؟ کاش کہ مولانا محمود مدنی اورنگزیب کو بھی دس نمبر دے دیتے تو ان کی ضرب بڑی کاری ہوتی، لیکن پھر بھی یہ فلسفہ تاریخ کا موضوع ہے۔ جس کو اس سے دلچسپی ہو وہ ڈاکٹر مظفرالدین فاروقی کی کتاب “ہندوستان میں مسلم دور حکومت کا خاتمہ: اسباب وعلل” مطالعہ کر سکتا ہے۔ نسبتا کم متعصب مؤرخین نے مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب میں یہ بات بھی لکھی ہے کہ اورنگزیب عالمگیر نے اپنے دور کے 25 سال محاذ جنگ میں گزارے ہیں، اسی لیے جب ان کا انتقال ہوا تو ان کا کوئی مضبوط جانشین نہیں تھا، ان کے تین بیٹوں کے درمیان خزانے کو لے کر اختلافات پیدا ہوئے اور سلطنت کا زوال شروع ہوگیا۔ ان مؤرخین کے نزدیک اورنگزیب اپنے تمام تر عدل وانصاف اور رعایا پروری کے باوجود بہت کامیاب حکمراں نہیں تھے۔ ڈاکٹر مظفرالدین فاروقی نے اگرچہ اس سے اختلاف کیا ہے، لیکن بہرحال ایک نظریے کے طور پر فلسفہ تاریخ میں یہ بات درج ہوچکی ہے۔

مولانا محمود مدنی کے سامنے یہ تاریخی پس منظر تھا یا نہیں، یہ تو وہی بہتر جانتے ہیں، لیکن جس طرح انھوں نے داراشکوہ پر کیے گئے سوال سے توجہ ہٹاکر، اورنگزیب عالمگیر کا موازنہ شیواجی سے کیا (جب کہ سائل نے اورنگزیب کا موازنہ داراشکوہ سے کیا تھا) اس سے انھوں نے اورنگزیب عالمگیر کا سخت گیر ہندوؤں کے سامنے دفاع کیا ہے۔ ساتھ ہی اچھے اور برے مسلمان کے سوال پر، خود انھی کو یہ کہہ کر کٹھرے میں کھڑا کردیا کہ پہلے تم طے کرو کہ اچھا ہندو کون ہے اور برا ہندو کون۔

اب آئیے “متفسبکان ملت” وباشندگان واٹس ایپ کی طرف۔ ہمارا ہرگز آپ سے یہ مطالبہ نہیں ہے کہ آپ ان کو یا کسی اور شخصیت کو قائد ورہبر تسلیم کریں، لیکن یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ سنگھی ادارے اور میڈیا ان کو ایک معتبر مسلم چہرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ جب بیان دیتے ہیں تو نیوز بنتی ہے۔ یہ بہت اچھا موقع تھا کہ مولانا محمود مدنی کے موازنے کے بعد ہم سوشل میڈیا پر خصوصا غیر مسلموں اور اپنی تاریخ سے نابلد مسلمانوں کے سامنے اورنگزیب عالمگیر اور شیواجی کے درمیان موازنہ کے سلسلے کو آگے بڑھاتے اور اس مظلوم بادشاہ کی شخصیت پر لگائے گئے دھبوں کو صاف کرتے، لیکن ہم گمراہ کن اخباریوں کی خبروں کا شکار ہوگئے۔ اس سے بہتر تو کشمیر کی ہی بحث تھی، کم از کم اہل کشمیر کو یہ پیغام تو جارہا تھا کہ قوم ان کے تعلق سے فکرمند ہے۔

اس پوری تحریر کا اصل مقصد مولانا محمود مدنی کا دفاع نہیں ہے، بلکہ یہ اپنی برادری کی “تجزیہ نگاری” میں عجلت اور “تبصرہ نگاری” میں سرعت پر اپنی کڑھن کا اظہار ہے۔ فیک نیوز کے اس دور میں، ہمیں کم از کم اتنی زحمت کرلینی چاہیے کہ ہم اصل خبر تک پہنچ جائیں۔ ہمیں تنقیص کے اس عمومی مزاج کو ختم کرنا ہوگا ورنہ جہان فیس بک پر اپنی عزت کو بچانے کی خاطر اظہار حق کی آزادی ختم ہو جائے گی۔ اسی طرح ایسے مواقع پر صاحب بیان کی طرف سے بھی بعجلت وضاحت آنی چاہیے تھی، تاکہ ہمارے نوجوان اطمینان کا اظہار کرکے کسی تعمیری کام میں وقت صرف کرسکیں۔

0 Shares:
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *